بھٹکل:22؍ مارچ (ایس اؤ نیوز ) گذشتہ روزقومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل میں اسمبلی انتخابات کو لےکر بھٹکل کے ذمہ داران سمیت اطراف کے علاقوں کی جماعتوں کے نمائندوں کو لے کر ایک اہم میٹنگ کا انعقاد ہوا تھا جس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ بھٹکل اسمبلی حلقہ سے مسلم اُمیدوار کو میدان میں نہیں اُتارا جانا چاہئے، تنظیم کے اس فیصلے سے ناراض خواتین کے ایک گروپ نے آج بدھ کوتنظیم کے باہر جمع ہوکر احتجاج کیا اور اس بات کا مطالبہ کیا کہ کثیر مسلم آبادی والے بھٹکل اسمبلی حلقہ سے مسلم اُمیدوار کو ہی میدان میں اُتارنا چاہئے، اگر مسلم امیدوار کونہیں اُتارا گیا تو ہم نوٹا کو اپنا ووٹ دے کر اپنے ووٹوں کو ضائع کریں گے۔
ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ پیر کو مجلس اصلاح وتنظیم کےعہدیداران اورساحلی پٹی کی 22جماعتوں کے عہدیداران کے ساتھ اہم نشست منعقد ہوئی تھی ۔ تنظیم کے 40عہدیداران اور 22ساحلی جماعتوں کے عہدیداران کی مجموعی تعداد کل 60 ہے، لیکن پیر کو منعقدہ نشست میں 48 نمائندے حاضر تھے۔ نشست میں اس بات کو لےکر غوروخوض ہوا کہ ریاست میں ہونےو الے اگلے انتخابات میں بھٹکل ودھان سبھا حلقہ سے مسلم امیدوار کو اتارا جائے یا نہیں۔ رائے مشورے کے بعد جب ووٹنگ ہوئی تو 20نمائندوں نے مسلم امیدوار کے حق میں ووٹ دیا تو 27 نمائندوں نے خلاف میں ووٹ دیا، جبکہ ایک ووٹ ضائع ہوگیا۔ رائے شماری کے بعد فیصلہ لیاگیا کہ اگلے ودھان سبھاانتخابات میں تنظیم کی طرف سے کوئی مسلم نمائندہ میدان میں نہیں اتارا جائے گا۔
تنظیم میں لئے گئے فیصلے کو لے کر ایک طرف سوشیل میڈیا کے بعض گروپوں میں مسلم اُمیدوار کو کھڑانہ کرنے کے فیصلے پربعض مسلم حضرات سخت ناراضگی ظاہرکررہے ہیں تو وہیں بعض کانگریس کے حمایتی مسلم اُ٘میدوار کی سخت مخالفت بھی کررہے ہیں۔
اسی طرح کی مخالفت آج بھٹکل یوتھ گرلس ونگ اسوسی ایشن کے نام سے سامنے آئی ہے، اور اس اسوسی ایشن کی طرف سے عائشہ طرفہ عجائب کے نام سے تنظیم کو میمورنڈم دیاگیا ہے جس میں20مارچ کو لئے گئے تنظیم کے فیصلے کی کڑی مذمت کرتےہوئے کہاگیا ہے کہ تنظیم اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور مسلم امیدوار کے حق میں فیصلہ لے۔ میمورنڈم میں الزام لگایا گیا ہے کہ تنظیم کی مجلس عاملہ اور سیاسی پینل کو اعتماد میں لئے بغیر ایک طرفہ فیصلہ لیاگیا ہے۔ تنظیم کے صدر عنایت اللہ شاہ بندری کی غیر حاضری میں تنظیم کے جنرل سکریٹری عبدالرقیب ایم جے ندوی نے میمورنڈم وصول کیا، انہوں نے خواتین کو تیقن دلایا کہ وہ ان کےمطالبات کو تنظیم کی مجلس عاملہ میں پیش کریں گے۔
احتجاج کے دوران میڈیا سے بات کرتےہوئے ایک خاتون نے بتایاکہ میمورنڈم میں خواتین کی طرف سےکہاگیا ہے کہ بھٹکل ودھان سبھاحلقہ میں 60ہزارسے زائدمسلم رائے دہندگان ہیں اس کے باوجود مسلم امیدوار کو انتخابی میدان میں نہیں اتارنا تعجب خیز ہے۔ حلقہ میں اب تک جتنے بھی رکن اسمبلی منتخب ہوئےہیں ان میں سے کسی نے بھی مسلمانوں کے مسائل کی طرف توجہ نہیں دی ، حجاب کا معاملہ ہو، این آر سی ، سی اے اےکےمعاملے ہوں، گذشتہ انتخابات میں مسلمانوں نے جس نمائندے کی حمایت کی تھی اور مسلمانوں نے جسے کثیر تعداد میں ووٹ دیا تھا، وہ نہ مسلمانوں کے کسی احتجاج میں شریک ہوا نہ ہی مسلمانوں کے خلاف ہورہی نا انصافی پر بیان جاری کیا۔ کووڈ جیسے خطرناک حالات میں بھی اُس نے ہماری طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھا، یہ تنظیم ہی تھی جو ہر ایک معاملےمیں مسلمانوں کی مدد کررہی تھی اورہر طرح کی سہولیات فراہم کررہی تھی۔ اسی لئے ہم خواتین مطالبہ کرتی ہیں کہ بھٹکل سے مسلم امیدوار ہونا چاہئے تاکہ وہ ہمارے مسائل کی طرف توجہ دے سکے۔